پیر 19 اکتوبر 2026 - 17:53
غلطیوں کو خوبصورت سمجھنا انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے، استغفار اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے: استاد پناہیان

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نے کہا ہے کہ غلط کاموں کو اچھا سمجھنا انسان کو اپنی غلطیوں پر قائم رکھتا ہے، جبکہ حقیقی خوبصورتی کو پہچاننا اور استغفار کی عادت اپنانا انسان کی ہدایت اور اصلاح میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نے آج ٹیلی ویژن پروگرام ’’سمت خدا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں کہا کہ بعض اوقات انسان اپنی غلطیوں کو درست ثابت کرنے کے لیے انہیں اچھا سمجھنے لگتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے غلط راستے پر چلتا رہتا ہے۔

انہوں نے سورۂ فاطر کی آیت 8 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب کسی شخص کو اس کا برا عمل اچھا دکھائی دینے لگتا ہے تو اس کی صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ شیطان بھی انسان کے سامنے غلط کاموں کو خوبصورت بناکر پیش کرتا ہے، جس سے وہ حق کے راستے سے دور ہوسکتا ہے۔

حجۃ الاسلام پناہیان نے کہا کہ خوبصورتی کا احساس صرف گمراہی کا سبب نہیں بنتا، بلکہ حقیقی خوبصورتی کو پہچاننا ہدایت کا ذریعہ بھی ہے۔ ایثار، قربانی، عبادت اور دوسروں کی خدمت جیسے اچھے اعمال کی خوبصورتی کو سمجھنے سے انسان ان کی طرف مائل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہانیوں، فلموں، تاریخی واقعات اور فنون کے ذریعے بھی اچھے کردار اور نیک اعمال کی خوبصورتی لوگوں تک پہنچائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے مجالسِ عزائے امام حسین علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مجالس میں اہل بیت علیہم السلام کی قربانیوں اور ایثار کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں، جن سے انسان حقیقی خوبصورتی کو سمجھ سکتا ہے اور روحانی سکون حاصل کرسکتا ہے۔

انہوں نے روزمرہ زندگی میں بھی خوبصورتیوں کو پہچاننے پر زور دیا اور کہا کہ خاندان کے لیے والد کی محنت، بچوں کے لیے ماں کی قربانیاں اور صفائی کرنے والے کارکن کی خدمت بھی قابل قدر ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان کاموں کی اہمیت کو سمجھے اور دوسروں کی محنت کی قدر کرے۔

حجۃ الاسلام پناہیان نے کہا کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے انہیں درست ثابت کرنے کی کوشش انسان کو بار بار وہی غلطی کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، توبہ اور استغفار انسان کو اپنی کوتاہیوں پر غور کرنے اور اپنے رویے کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

انہوں نے بچوں کی تربیت کے حوالے سے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو صرف غلط کاموں سے منع کرنے کے بجائے اچھے اعمال کی خوبصورتی بھی سمجھائیں۔ اسی طرح مادی چیزوں، مثلاً گاڑی، سونے اور دولت کی غیر ضروری تعریف کرنے سے گریز کریں، تاکہ بچوں کے ذہنوں میں خوشحالی کا تصور صرف مادی وسائل تک محدود نہ ہوجائے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ حقیقی خوبصورتی کو پہچاننا، غلطیوں کو تسلیم کرنا اور استغفار کی عادت اپنانا انسان کی اخلاقی اصلاح اور بہتر زندگی کے لیے ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha